پسرور تاریخ کے آئینے میں
ضلع سیالکوٹ کا تحصیل ہیڈکوارٹر پسرور ایک تاریخی
شہر ہے۔روایت ہے کہ یہ شہر قبل از مسیح عہد سے تعلق رکھتا ہے
لیکن اس روایت کا کوئی مستند حوالہ موجود نہیں عام طور پر جب
پسرور کا ذکر آتا ہے تو اس کی شہرت یا پہچان کے اسباب بھی بیان
کیے جاتے ہیں۔ پسرور غلہ کا قدیم مرکز تھا فرحت الناظرین میں
لکھا ہے کہ پسرور ایک ہزار سال قبل وجود میں آیا یہ کتاب تین
سو برس پہلے شائع ہوئی۔ اس حوالے کو درست مان لیا جائے تو پسرور
13 سو سال قدیم شہر ہے۔قیاس کیا جاتا کہ 712ء میں جب محمد بن
قاسم نے سندھ فتح کیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی آمدورفت شروع
ہوئی تو اسلام کی کرنیں اس شہر کے باسیوں پر پہلے پہل پڑی ہوں گی۔
تاہم شہر کا باقاعدہ ذکر مغلیہ سلطنت کے بانی
ظہیرالدین بابر کی کتاب تزک بابری میں ملتا ہے اسی سے پتہ چلتا
ہے کہ ماضی میں پسرور کا نام پر سرور تھا۔ بابر نے ابراہیم لودھی
سے پانی پت میں لڑائی سے قبل یہاں ایک یوم قیام کیا تھا۔ مغلیہ
خاندان کا ایک اور بایوں دو بار پسرور آیا۔ منشی امین چند کی
کتاب"تاریخ سیالکوٹ" میں لکھا ہے کہ شیر شاہ سوری سے شکست کھانے
کے بعد ہمایوں فقیر کے روپ میں پسرور آیا۔ اس نے حضرت جلال شاہ
بخاری کے مزار (جو محلہ جناح گیٹ کے قریب محمد حسین پینٹر کی گلی
میں واقع ہے) پر حاضری دی۔یہاں مٹیکا نامی ہندو لڑکے نے ہمایوں کو فقیر
سمجھ کر ایک روپیہ دیا۔ ہمایوں نے یہ خیرات نہ لی کچھ عرصہ بعد
جب ہمایوں دوبارہ اقتدار میں آیا تو اس بادشاہ کے روپ میں حضرت
جلال شاہ بخاری کے مزار پر حاضری دی ہمایوں کو مٹیکا سے پہلی
ملاقات یاد تھی اس نے خوش ہو کر "پر سرور" کا پرلنہ بطور جاگیر
مٹیکا کو دے ریا۔ مٹیکا نے مرنے سے قبل اپنے روحانی گرو پرس رام
کو پسرور دے ریا۔
حضرت جلال شاہ بخاری کے مزار کے ساتھ قدیم مسجد
بھی ہے مغلیہ دور میں پسرور کتنا اہم علاقہ تھا اس کا اندازہ اس
حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکبر کے عہد میں صوبہ لاہور آٹھ
حصوں میں منقسم تھا ۔ لاہور ۔ جالندھر ۔ بٹالہ پور ۔ پر سرور ۔
رہتاس ۔ سیالکوٹ ۔ ہزارہ ۔ اس دور میں پسرور غلہ کی اہم منڈی تھا۔
اکبر کے دور میں پسرور کے ایک بزرگ شاہ بین کا
ذکر ملتا ہے ان کا مزار چوک غلہ منڈی کے قریب واقع قبرستان میں
ہے ان کا اصل نام شاہ دین تھا۔ روایت ہے کہ ان کے پردادا سید شیر
علی ہمایوں کے ساتھ اایران سے پسرور آنے تھے ان کے نام سے شہر
کا ایک دروازہ بھی موسوم ہے اکبر کے عہد میں نواب نامی ایک ہندو
باجوہ مسلمان ہوا تو اس نےشاہی مسجد تعمیر کروائی۔ جبکہ کالومل
نامی شاہی ملازم نے پختہ ہشت پہلو تالاب بنایا جو پیر جہانیاں
قبرستان کے ساتھ واقع ہے۔ اس تالاب کے متعلق ایک غلط روایت مشہور
ہے کہ تالاب کے کسی بھی کونے میں کھڑا ہونے پر انسان کا رخ مغرب
کی طرف ہو جاتا ہے ۔ شاہ جہاں کے دور میں شہزادہ داراشکوہ نے
پختہ تالاب میں پانی لانے کے لیے نالہ ڈیک سے ایک نہر کھدوائی جو
موضع چرونڈ کے قریب سے نکالی گئی ۔ پسرور شہزادہ روڈ اسی نہر میں
مٹی بھر کر بنایا گیا ہے۔ موضع عیسی کے قریب نہر کا رخ چرونڈ کی
طرف ہو جاتا ہے 1980ء تک اس کے آثار باقی تھے۔ اس سے معلوم ہوتا
ہے کہ ماضی میں پسرور شہر میں پانی کی قلت تھی۔ اورنگزیب عالمگیر
کے عہد میں پسرور کا حاکم سنگت راءے تھا۔ اس نے موجودہ ایلیمنٹری
کالج میں بارہ دری بنواءی اور باغ لگوایا۔ بعد ازاں محکمہ تعلیم
کے ذمہ داران نے بارہ دری مسمارکر کے یہاں پرنسپل کی رہاءش گاہ
تعمیر کر دی۔
محلہ ککے زئیاں میں بڑی مسجد اہلحدیث بھی تاریخی
اہمیت کی حامل ہے اسے ککے زئی خاندان کے جد امجد شیخ عبدالرحیم
نے تقریبا ساڑے تین سو سال قبل بنوایا پسرور کی قدیم مساجد میں
محلہ امام صاحب میں واقع مسجد بھی ہے مگر اس کی قدامت کا صحیح
اندازہ نہیں ہے شہر کے مغرب میں ہسپتال روڈ پر واقع قدیم عید گاہ
بھی ککے زئی خاندان کی معروف شخصیت شیخ عبدالرحیم نے بنوائی۔ یہ
بڑی مسجد اہلحدیث کے ساتھ یعنی ایک ہی دور میں تعمیر کروائی گئی۔
پسرور کے تاریخی آثار میں تالاب ہشت پہلو۔ کچا تالاب، مانگے
دامڑھ یہاں کلاسوالہ (شہر کا نام)کے بانی کلاس باجوہ کے والد
مانگا کی راکھ دفن ہے۔ دیوکاں چونڈہ پھاٹک کے قریب ہندوںنے مردے
جلانے کے لیے سمسان گھات اور تالاب بنوایا تھا جس کے آثار ابھی
باقی ہیں۔ شاہی رہاءش گاہ (امجد میڈیکل ہال کے سامنے جہاں آج کل
دوکانیں تعمیر کرنے کے لیے قبضہ گروپوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے)۔
تاریخی مقامات میں سرائے بھائی کرم سنگھ اور وکٹوریہ سرائے بھی
قابل ذکر ہیں وکٹوریہ سرائے کی جگہ ان دنوں بلدیہ کا مرکزی دفتر
ہے پسرور شہر اپنے دروازوں کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ ان میں شاہ
ببن دروازہ موری دروازہ محلہ سیداں، تحصیل گیٹ۔ دروازہ ککے زئیاں
جناح گیٹ دروازہ آرائیاں اور دروازہ بھابھڑیاں قابل ذکر ہیں
پسرور بزرگان دین کا شہر ہے یہاں امام میراں برخوردار، سید جلال
شاہ بخاری ، شاہ دریا دیوان ، پیر جہانیاں ، شاہ بین ، پیر مادھے
شاہ ، پیر نامی شاہ ، شاہ ناگا ولی محبت شاہ ولی، پیر جھولا، شاہ
بدر ، بابا اعظم شاہ ۔ جھنگی شاہ ، شاہ ملوک اور بزرگ خاتون ماءی
اللہ رکھی کے مزارات ہیں پسرور میں 1947ء تک ہندوآباد رہے اور
شہر میں ان کی کافی تعداد تھی ہندئوں کی عبادت گاہوں کو بابری
مسجد کی شہادت کے بعد چند شدت پسند مسلمانوں نے ناقابل تلافی
نقصان پہنچایا ان میں مندر گینداں خاص طور پر قابل ذکر ہے جو شاہ
بین دروازہ کے باہر ریلوے روڈ پر واقع ہے۔ محلہ امام صاحب میں
ایک مندر کے آثار موجود ہیں۔ یہ 1904ء میں ٹھاکر داس نے بنوایا
شاہ بین دروازہ کے اندر محلہ دھسیالی کی طرف نکلنے والی گلی میں
مندر محکم چند 1937ء میں تعمیر ہوا۔ سبزی منڈی کے قریب اور موری
دروازہ کے سامنے ایک مندر کے آ ثار موجود ہیں پسرور میں عیسایوں
کے تین قدیم گرجے ہیں ایک گرجا یوپی چرچ محلہ ککے زئیاں میں مین
روڈ پر 1898ء میں تعمیر ہوا۔ 1957ء میں سویڈن کی مشنری نے محلہ
عنایت پورہ میں فل گاسپل چرچ قاءم کیا۔ عیسایوں کا ایک گرجا
سینٹوینٹ پراءمری سکول میں قاءم ہے جو 1964ء میں بنایا گیا۔
پسرور میں قادیانیوں کی واحد عبادت گاہ محلہ کھوکھراں میں 1976ء
میں ملک نذیر احمد نے بنواءی جہاں قادیانی کبھی کبھار عبادت کر
لیتے ہیں تاہم ملک نذیر احمد کی نسل میں اکثر افراد اسلام قبول
کر چکے ہیں۔ انگریزوں نے پسرور پر 1849ء میں قبضہ کر لیا تو الہی
بخش نامی شخص پسرور کا حاکم بنا دیا گیا اس نے پسرور پر قبضہ
کرتے وقت انگریزوں کی مدد کی تھی ۔ غالبا بیرونی لوگوں کو اپنے
علاقے کی قیادت سونپنے کی روایت قائم کرنے والا وہ پسرور کا پہلا
بدبخت شخص تھا۔ بعد میں شہریوں نے اسی روایت کو سینے سے لگا لیا۔
الہی بخش کا انتقال 1875ء میں ہوا انگریزوں نے پسرور کی حیثیت کم
کرنے کی کوشش کی اور اسے ضلع سیالکوٹ کی سب ڈویژن بنا دیا۔ اور
اسے ذیل کا نام دیا گیا۔ نبی بخش ولد حیات علی کو پسرور کا
ذیلدار بنایا گیا بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں یہاں تحصیلدار کا
تقرر ہوا۔ کواپریٹو بنک بنا۔ 1916ء میں نارووال اور سیالکوٹ کے
درمیان ریل گاڑی
چلائی گئی اسی دور میں نارمل سکول قائم ہوا۔ 1928ء انٹر کالج کا قیام عمل میں آیا۔ 1958ء پسرور میں بجلی
فراہم کی گئ۔ 1970ء میں یہاں اسسٹنٹ کمشنر آغا حیدر تھے۔ 1975ء پسرور شوگر مل قائم ہوئی 1976ء میں طالبات کے لیے انٹر کالج بنا۔ 1977ء ڈی۔ایس۔پی کی تعیناتی ہوءی ۔ 1987ء میں نارمل سکول کو
ایلیمنٹری کالج بنا دیا گیا۔ 1989ء میں گرلز کالج کوڈگری کا درجہ
دے دیا گیا۔ پسرور کے آخری اسسٹنٹ کمشنر عامر اعجاز اکبر 13 اگست 2001 تک کام کرتے رہے پسرور کی تاریخی شخصیات میں حضر جلال
شاہ بخاری،
امیر میراں برخوردار شاہ بین
، فارسی شاعر دلشاد پسروری، مصنف محمد اسلم ، پیر جہانیاں، ککے زئی خاندان کے جد امجد عبدالرحیم شیخ اور ملا عبدالوہاب قابل
ذکر ہیں۔ موجودہ صدی میں مولانا نور احمد امر تسری ، مولوی محمد
عبداللہ، مولوی محمد حسین ، خان بہادر شاہ نواز خان ، میاں محمد
ابراہیم کاکا، حکیم گلاب ، مرحوم نمایاں شخصیات قرار دی جا سکتی
ہیں۔
تحریر ابن آدم پسروری
|